آج کی ڈیجیٹل دنیا میں آپ کا بینک اکاؤنٹ، نجی ای میلز اور موبائل فون پر ہونے والی تمام گفتگو 'انکرپشن' (Encryption) کے ذریعے محفوظ ہے۔ یہ انکرپشن ایسے پیچیدہ ریاضیاتی مسائل پر مبنی ہے جنہیں حل کرنے میں موجودہ طاقتور ترین سپر کمپیوٹرز کو بھی لاکھوں سال لگ سکتے ہیں۔ لیکن ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک ایسا طوفان دستک دے رہا ہے جو اس ریاضیاتی قلعے کو سیکنڈوں میں مسمار کر سکتا ہے: کوانٹم کمپیوٹر۔
کوانٹم کمپیوٹر کوئی عام کمپیوٹر یا موجودہ سپر کمپیوٹر کی اگلی شکل نہیں ہے، بلکہ یہ طبیعیات (Physics) کے بالکل مختلف اصولوں پر کام کرتا ہے۔ جہاں عام کمپیوٹر 'بٹس' (0 اور 1) پر کام کرتے ہیں، وہیں کوانٹم کمپیوٹر 'کیوبٹس' (Qubits) کا استعمال کرتے ہوئے ایک وقت میں کروڑوں حساب کتاب کر سکتے ہیں۔
ریاضی دان پیٹر شور نے ایک ایسا الگورتھم تیار کیا ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ ایک طاقتور کوانٹم کمپیوٹر موجودہ انکرپشن (جیسے RSA اور ECC) کو منٹوں میں توڑ سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمام حفاظتی نظام جن پر آج کا عالمی مالیاتی اور دفاعی ڈھانچہ کھڑا ہے، کوانٹم دور میں بے معنی ہو کر رہ جائیں گے۔
اگرچہ مکمل طور پر فعال کوانٹم کمپیوٹرز ابھی عام نہیں ہوئے، لیکن ایک بڑا خطرہ "Harvest Now, Decrypt Later" کی صورت میں موجود ہے۔ بدنیتی پر مبنی ہیکرز اور بعض حکومتی ادارے آج دنیا بھر کا خفیہ ڈیٹا چرا کر محفوظ کر رہے ہیں۔ ان کا منصوبہ یہ ہے کہ جیسے ہی کوانٹم کمپیوٹر تیار ہوں گے، وہ اس پرانے ڈیٹا کو ڈی کرپٹ (Decrypt) کر کے استعمال کر سکیں گے۔ یعنی آپ کی آج کی خفیہ معلومات شاید 10 سال بعد محفوظ نہ رہیں۔
اس بڑھتے ہوئے خطرے کا واحد حل کوانٹم سیف کرپٹوگرافی (Quantum-Safe Cryptography) ہے۔ یہ انکرپشن کے ایسے نئے طریقے ہیں جو نہ صرف موجودہ کمپیوٹرز بلکہ مستقبل کے طاقتور کوانٹم کمپیوٹرز کے حملوں کو بھی ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
امریکی ادارہ 'نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹینڈرڈز اینڈ ٹیکنالوجی' (NIST) اس میدان میں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہا ہے۔ 2016 میں NIST نے دنیا بھر کے ماہرین کے درمیان ایک مقابلہ شروع کیا تاکہ ایسی انکرپشن اسکیمیں تیار کی جائیں جو 'کوانٹم پروف' ہوں۔ برسوں کی تحقیق کے بعد اب کچھ بہترین الگورتھمز کو معیاری (Standardize) بنایا جا رہا ہے۔
لیٹس بیسڈ کرپٹوگرافی (Lattice-based Cryptography): یہ اس وقت سب سے زیادہ قابلِ بھروسہ میدان ہے۔ یہ ایسے پیچیدہ ریاضیاتی ڈھانچوں پر مبنی ہے جنہیں حل کرنا کوانٹم کمپیوٹر کے لیے بھی ناممکن تصور کیا جاتا ہے۔
ہیش بیسڈ (Hash-based) اور کوڈ بیسڈ (Code-based): ان الگورتھمز کو مخصوص ضروریات کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم عام استعمال کے لیے 'لیٹس بیسڈ' ٹیکنالوجی کو ہی ترجیح دی جا رہی ہے۔
موجودہ نظام سے کوانٹم سیف نظام پر منتقلی (Migration) ایک انتہائی مہنگا اور طویل عمل ہوگا۔ دنیا بھر میں موجود اربوں ڈیوائسز اور لاکھوں سرورز کو اپ ڈیٹ کرنا ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔
بینکنگ اور مالیات: ہر ٹرانزیکشن اور کریڈٹ کارڈ کے ڈیٹا کو نئے QSC الگورتھم کے تحت لانا ہوگا تاکہ مستقبل کے مالیاتی بحران سے بچا جا سکے۔
حکومت اور دفاع: حساس ریاستی معلومات کو آج ہی کوانٹم پروف بنانا ضروری ہے تاکہ دہائیوں تک ان کی رازداری برقرار رہے۔
انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT): سمارٹ واچز، کیمرے اور گاڑیوں کے سینسرز جیسے آلات کو اپ ڈیٹ کرنا مشکل لیکن ناگزیر ہے کیونکہ یہ بھی حساس ڈیٹا منتقل کرتے ہیں۔
ایک عام صارف کے طور پر فی الحال آپ کو کسی براہ راست تکنیکی کارروائی کی ضرورت نہیں ہے، لیکن اس خطرے سے آگاہی ضروری ہے۔ اصل ذمہ داری بڑی کمپنیوں، بینکوں اور کلاؤڈ سروس فراہم کرنے والوں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ابھی سے اپنے انفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کرنا شروع کریں۔
کوانٹم کمپیوٹر کا خطرہ اب محض مفروضہ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے۔ 'کوانٹم سیف کرپٹوگرافی' سیکیورٹی کے ایک نئے دور کی بنیاد رکھ رہی ہے۔ آنے والے چند برسوں میں ہم ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک خاموش مگر عظیم سیکیورٹی اپ گریڈ دیکھیں گے، اور یہی اپ گریڈ ہماری ڈیجیٹل دنیا کی بقا کا ضامن ہوگا۔